▲ 1 r/Urdu
ہم تو ٹھہرے ہوئے دریا کی طرح خاموش رہے
ہم تو ٹھہرے ہوئے دریا کی طرح خاموش رہے
ہم نے سیکھا ہی نہیں جذبۂ اظہار کرنا
ضبط کی قید میں گھٹتا رہا دم بھی لیکن
آیا ہم کو نہ کبھی شکوہِ اغیار کرنا
وہ جو پڑھ لیتے ہیں آنکھوں میں لکھے افسانے
ان کے سامنے کیا اشک کا اقرار کرنا
لب سلے ہیں تو زمانے کو گلہ ہے ہم سے
اب کیا شبیر ہر اک راز کو بازار کرنا
u/Low_Health_691 — 6 days ago