گزشتہ ماہ چند اشعار لکھنے کی ایک حقیر کوشش
تمام عمر جلے تنہا اور کرتے رہے اجالا
اک بے بسی لے ڈوبی اور کرتے رہے کنارا
تجھے مسکراتا دیکھوں، رہی دل میں ایک حسرت
اپنے ہی غم ہزاروں، نہ تمہیں دے سکے سہارا
ہونے دے آشنا ہمیں کچھ راز اپنے کھول
دکھ بانٹنے سے ہو گا ہلکا یہ دل تمھارا
بہت سبق ہم نے سیکھے ہر زندگی کے موڑ پر
یوں در بدر نہ ہوتے گر ہوتا کوئی ہمارا
خاموشیوں کے شور میں گھٹتا ہے دم اب میرا
چلتے ہیں کہیں دور اور ڈھونڈیں نیا ٹھکانہ